ریاستی اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ افتاب شیرپاو

ُُُُُُُُپشاور(دی سپاٹ ٹائمز) قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤنے صدر عارف علوی کی جانب سے نئی حکومت کے قیام کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے بیانات کی وجہ سے متنازعہ بن چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چکدرہ ضلع لوئردیر میں شمولیتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق تحصیل امیدوارادینزئی عمران خان ایڈوکیٹ اور پختونخوابار کونسل کے ممبر اور انصاف لائرز فورم ملاکنڈ ڈویژن کے کوآرڈی نیٹرشیرین خان ایڈوکیٹ نے اپنے ساتھیوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ صدرپاکستان کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے لہٰذا انھیں ایسے متنازعہ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کا قیام اس صورت میں ممکن ہے جب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب یا ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد ہوں۔انھوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو۔انھوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں بظاہر بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ عمران خان موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کیلئے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔انھوں نے آئی ایم ایف سے مالی معانت کے حصول میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پسے ہوئے طبقات کو ریلیف فراہم کرے کیونکہ ملک میں مہنگائی حد درجے بڑھ چکی ہے جس کی بدولت عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔انھوں نے بارشوں اورسیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی بحالی اور امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔خیبر پختونخوا میں بجلی کی جاری لوڈشیڈنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زیادہ اور سستی بجلی پیدا کرنے کے باوجود بھی یہاں کے لوگوں کو ناروا لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ اور ضلع دیر لوئر کے پارٹی عہدیدار اور کارکن بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں