شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اشتہاری قرار

لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف، ان کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور دیگر اہلِ خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دے دیا۔

احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے ریفرنس کی سماعت کی، جس کے دوران جیل حکام نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کر دیا۔

آج عدالت نے گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کر رکھا تھا۔

احتساب عدالت نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے کہاکہ نصرت شہباز کو 30 دن کی مہلت دی گئی تھی وہ مکمل ہو چکی ہے۔

دورانِ سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کے ایسوسی ایٹ وکیل عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ امجد پرویز سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔

فاضل جج نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تو یہ کیس کبھی مکمل نہیں ہوگا، نیب کے گواہوں پر ملزمان خود جرح کریں، 12 بجے تک فیصلہ کر لیں کہ وہ خود جرح کریں گے یا نہیں۔

احتساب عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔

دوبارہ سماعت شروع ہونے پر میاں شہباز شریف نے عدالت سے روسٹرم پر آ کر بیان دینے کی درخواست کی۔

احتساب عدالت کے جج نے شہباز شریف کو روسٹرم پر آ کر بولنے کی اجازت دے دی۔

شہباز شریف نے روسٹرم پر اپنے بیان میں کہا کہ مجھے آج تک میڈیکل رپورٹس اور فزیو تھیراپسٹ فراہم نہیں کیا گیا، میں نے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب 3 بار کام کیا، جس کی کبھی حکومت سے تنخواہ نہیں لی، نہ کبھی کوئی الاؤنس لیا، کبھی پیٹرول کے پیسے بھی سرکاری خزانے سے نہیں لیے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پنجاب کے عوام کی دل سے خدمت کی ہے ، میں نے کبھی کرپشن نہیں کی، نہ کبھی قوم کا پیسہ کھایا، اللّٰہ تعالیٰ کے دیئے گئے وسائل میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت کی۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ کینسر کا مریض ہوں، میرے علاج پر اربوں روپے لگے ہیں، مگر کبھی عوامی خزانے سے پیسے نہیں لیئے، اپنی جیب سے پیسے لگائے۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر لاہور کی احتساب عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں