خیبرپختونخوا حکومت کی اپوزیشن جماعتوں کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے

خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2020/21 کے بجٹ کو پیش اور پاس کرنے کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں حکومت اور اپوزیشن ارکان جہاں مشت گریباں ہوتے رہے وہیں اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی اجلاس نہ چلنے کے لیے ہر قسم کے جتن کیے ، جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی اکرم درانی سے وزیراعلی محمود خان سے کچھ روز سے خفیہ ملاقاتوں میں مگن تھے ، جس کی بنیادی وجہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ممکنہ اپوزیشن کی جانب سے ہلڑ بازی سمیت رواں سال کے ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات مانگنا تھیں ، کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اربوں روپے لگائے جا رہے ہیں جو مختلف محکموں کے ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی کے ذریعے خرچ کیے جا رہے ہیں ، اسی لیے وزیراعلی محمود خان نے انتہائی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اکرم درانی سے خفیہ مذاکرات شروع کیے ، اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اہم ارکان کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم دینے پر اتفاق ہوا ، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی وزیراعلی محمود خان نے اپوزیشن کے کئی ارکان کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں کروڑوں روپے دیئے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کھیلتے ہوئے جہاں اپوزیشن کو اسمبلی اجلاسوں سے احتیاج ختم کرنے کا معاہدہ کیا وہیں ایک اور خفیہ معاہدہ ائندہ مالی سال کے بجٹ میں خطیر رقم دینے کا کہا گیا ، تاکہ اپوزیشن جماعتیں رواں مالی سال کے ترقیاتی کاموں کے پیسوں کی تفصیلات نہ مانگ سکے ، اور حکومت کورونا وائرس سے بچاؤ پر لگنے والے اخراجات کی خاموشی سے منظوری کے سکے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے سب سے زیادہ رقم خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کو دیئے جانے کا معاہدہ کیا گیا ہے

6 تبصرے “خیبرپختونخوا حکومت کی اپوزیشن جماعتوں کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے

اپنا تبصرہ بھیجیں