حکومت کا تعلیم کے میدان میں ایک نہایت شاندارقدم۔

حکومت نے تعلیم کے میدان میں ایک نہایت شاندار منصوبہ لانچ کیا ہے جس کے تحت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انڈر گریجوایٹ پروگرام کا آغاز کردیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت:

ہر سال پچاس ہزار غریب طلبا کو چار سے پانچ سال کیلئے سکالرشپ ملے گا جس میں ان کی ٹیوشن فیس کی سو فیصد ادائیگی کے ساتھ ساتھ سالانہ چالیس ہزار روپے بطور وظیفہ بھی شامل ہوگا۔
اس پروگرام میں طلبہ اور طالبات کا مساوی یعنی پچاس، پچاس فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے
پروگرام کے تحت دو فیصد کوٹہ معذور طالبعلموں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کا اطلاق چاروں صوبوں بشمول فاٹا، گلگت اور آزاد کشمیر پر بھی ہوگا۔

یہ ہیں وہ اقدامات کے جن سے صحیح معنوں میں تبدیلی آتی ہے۔ شہبازشریف دور میں لیپ ٹاپ منصوبہ لانچ کیا گیا جس کے ذریعے کمیشن بنایا جاتا۔ لیپ ٹاپ کی افادیت خاک ہونا تھی، طالبعلموں کی اکثریت نے اسے ٹوٹے دیکھنے کیلئے ہی استعمال کیا، بعض نے تو مارکیٹ میں بیچ بھی دیا۔

موجودہ حکومت کے پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تحت سکالرشپ حاصل کرنے والے طالبعلموں کی ٹیوشن فیس کی براہ راست ادائیگی حکومت کرے گی جس سے یہ امکان ختم ہوجاتا ہے کہ فیس کی شکل میں حاصل کیا گیا کیش اپنی جیب میں ڈال لیا جائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس رقم کی تمام رسیدیں ہمہ وقت موجود ہوں گی، جس جس طالبعلم کی فیس جمع ہوگی،اس کا مکمل ریکارڈ سرکار کے پاس ہوگا جس سے کرپشن کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔

پروگرام کا سب سے زیادہ فائدہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس ہو گا۔ انڈرگریجویشن لیول پر جب کوالٹی بہتر ہونا شروع ہوگی تو اس کے اثرات گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کی سطح پر نمودار ہوں گے۔

یورپ سمیت جہاں جہاں بھی ویلفئیر سٹیٹس موجود ہیں، وہاں تعلیمی وظائف کا تقریباً ایسا ہی سسٹم شروع کیا گیا تھا جس کا فائدہ ان اقوام کو موجودہ ترقی کی شکل میں ہوا۔

موجودہ حکومت کا یہ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کے چند بہترین پروگرامز میں سے ایک ہوگا، انشا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں